امریکہ کے دوغلے پن کے باعث سعودی عرب نے اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ مملکت نے چین کی مدد سے بیلسٹک میزائل پروگرام کو اپ گریڈ کرنا شروع کر دیا ہے، جس پر امریکہ کی بے چینی بڑھ گئی ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے ’’سی این این‘‘ نے انکشاف کیا ہے کہ سعودی عرب صحرا کے بیچوں بیچ ایک خفیہ منصوبے پر عمل پیرا ہے، جس کے تحت مملکت ایران، اسرائیل اور سعودی عرب کے مشترکہ دوست چین کے تعاون سے بیلسٹک میزائل پروگرام کو تیزی سے ترقی دے رہی ہے۔ امریکہ کو تشویش ہے کہ چین کے ان تینوں ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں، حالانکہ مشرق وسطیٰ کے ان ممالک کے آپسی تعلقات انتہائی خراب ہیں۔
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے حال ہی میں ایران کے ساتھ جنگ کے امکان کو رد کر دیا تھا۔ جبکہ اسی دوران سعودی عرب پوری دنیا کو یہ باور کرانے میں مصروف تھا کہ ایران ایک دہشت گرد ملک ہے، جس کیخلاف سب کو اکھٹے ہوکر لڑنا ہوگا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ سعودی عرب سمیت دیگر خلیجی ممالک نے ایران سے نمٹنے یا اس پر حملہ کرنے کیلئے امریکہ کو اپنی فوج خلیجی ممالک اور ان کی سمندری حدود میں تعینات کرنے کی چھوٹ بھی دے دی تھی۔
تاہم امریکہ نے جنگی بیڑا خلیجی پانیوں میں پہنچانے کے بعد اپنا ارادہ بدل لیا اور ایران کو مذاکرات کی پیشکش کر دی۔ امریکہ کی اس دوغلی پالیسی کے سبب سعودی عرب نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے چینی ساختہ میزائلوں پر انحصار بڑھا دیا ہے۔ جبکہ سعودی عرب اس سے پہلے بھی چین سے ہتھیار خریدتا رہا ہے۔ البتہ گزشتہ برس ہی اس نے چین سے میزائل کا انفرا اسٹرکچر اور ٹیکنالوجی خریدی ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے کا کہنا ہے کہ میزائل پروگرام بہتر کرنے کا منصوبہ سعودی عرب کی ان کوشش کا نتیجہ ہے جن کے تحت وہ اپنا پہلا وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت پیدا کرنا چاہتا ہے۔ چینل نے تین مختلف ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب بیلسٹک میزائل تیاری کیلئے بنیادی ڈھانچے اور اس سے متعلق ٹیکنالوجی کو ایڈوانس مرحلے تک ترقی دے چکا ہے۔
سی این این کے مطابق امریکی حکومت کو ایسی انٹلیجنس معلومات ملی ہیں جن سے تصدیق ہوتی ہے کہ سعودی عرب خفیہ بیلسٹک پروگرام چلا رہا ہے، تاہم چینل کے بقول امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے یہ معلومات کانگرس سے چھپائیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق 1987 میں 35 ممالک کے درمیان طے پانے والے ایک معاہدہ کے تحت سعودی عرب میزائلوں کی خریداری نہ کرنے کا پابند ہے۔
واشنگٹن میں سعودی سفارتخانے نے اس خبر پر تبصرے سے گریز کیا ہے، تاہم چینی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ دونوں ملک چین اور سعودی عرب تمام تزویراتی شعبوں، بشمول عسکری، میں شریک ہیں۔ نیز یہ باہمی تعاون بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں نہیں آتا ہے۔