دوسری جانب کرونا وائرس کی وجہ سے ملک بھر میں مساجد بندش پر گہرے رنج و غم کا سما ہے وہیں تجارتی مراکز بند ہونے سے عوام شدید معاشی بحران کا بھی شکار ہوکر دہری اذیت میں مبتلاء ہیں۔ابھی تک جمعہ بندش سے ہی عوام مطمئن نہیں اور گھروں اور چھتوں پر قلیل تعداد میں جمع ہوکر جمعہ پڑھ رہے ہیں جبکہ بعض جگہوں پر زبردستی مساجد میں پہنچ جاتے ہیں جسکی بناء پر حکومت کی جانب سے ائمہ مساجد پر مقدمات بھی قائم کئے گئے ہیں۔
موجودہ صورتحال اور رمضان المبارک کی آمد کے پیش نظر کراچی اور اسلام آباد میں علمائے کرام کے 2 بڑے اجلاس منعقد ہوئے جسمیں تمام مکاتب فکر کے جید علماء کرام، مفتیان عظام اور مذہبی رہنماؤں نے شرکت کی اور مساجد بندش، کرونا وائرس سے بچاو کی احتیاطی تدابیر، رمضان المبارک، جمعہ و تراویح کے شرعی نقطہ نظر اور سرکاری احکامات اور آئندہ کے لائحہ عمل پر غور وخوض کیا۔پہلا مرکزی اجلاس ایک روز قبل دارالعلوم زکریا اسلام آباد میں مولنا پیر عزیزالرحمن ہزاروی کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں وفاق المدارس العربیہ کے ارکان شوری مولانا قاضی عبدالرشید، مولانا عبدالقدوس محمدی، مفتی اویس عزیز اور دیگر ائمہ کرام و علمائے کرام نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اجلاس کے بعد ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا جسے وفاق المدارس العربیہ کے شورائی رکن مولانا قاضی عبدالرشید نے پڑھ کر سنایا۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ رمضان المبارک میں مساجد کسی طور بند نہیں کی جاسکتیں۔قبولیت و مغفرت کے مہینے میں عبادت،تراویح اور مساجد کی آبادی ہی سے کرونا وبا اور معاشی تنگیوں سے بچا جاسکتا ہے۔اللہ ہی شفاء اور آسانی دینگے۔ عوام کو مساجد و عبادات کے ساتھ جوڑنے کی ضرورت ہے نہ کہ نماز و جمعے پر پابندی لگا دی جائے۔اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ مساجد میں تمام تر احتیاطی تدابیر ماسک،سینیٹائزر اور سوشل ڈسٹینسنگ کو اختیار کیا جائے گا جسمیں حکومت بھی مدد کرے ورنہ مساجد خود اسکا انتظام کرینگی۔
اعلامیہ میں ائمہ کرام پر بنائے جانے والے مقدمات پر گہرے غم و غصے کا اظہار بھی کیا گیا اور کہا گیا علمائے کرام نے ہر طرح سے حکومت کا ساتھ دیا ہے مگر ائمہ کرام کے ساتھ ناانصافی کی جارہی ہے جو کسی طور قبول نہیں۔صدر مجلس مولانا پیر عزیزالرحمن ہزاروی نے کہا کہ ہم مساجد بند نہیں کرینگے۔ہم مسلمان ہیں احتیاطی تدابیر پر عمل بھی اسلامی ہدایات کی بناء پر کرتے ہیں تو کسی وبا یا مصیبت میں اللہ کے گھروں کو کیسے بند کرسکتے ہیں جہاں سے توبہ اور حقیقی شفاء ملنی یے۔رمضان عبادتوں اور اللہ کو منانے کا بہترین مہینہ اور کرونا سے جان چھڑوانے کیلئے عطیہ خداوندی ہے اسے مساجد بند کرکے ضائع کرنا بڑی بیوقوفی ہوگی۔
اسلئے حکمران خود بھی اللہ سے توبہ کریں، اسکے آگے سجدہ ریز ہوں اور عوام کو بھی اللہ کے گھروں میں آنے سے نہ روکیں۔اللہ کو راضی کرنے دیں۔اس اعلامیہ کا اثر تمام ملک میں ہوا جوکہ دراصل تمام قوم اور علماء کی دل کی آواز تھی جس پر دوسرا اجلاس دارالعلوم کراچی میں شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی کی زیر صدارت منعقد ہوا جسمیں اتحاد تنظیمات مدارس کے مفتی منیب الرحمن،مجلس عمل کے مولانا انس نورانی،ڈاکٹر عادل خان، مولنا راشد محمود سومرو، قاری عثمان اور دیگر علمائے کرام نے شرکت کی اور بعد ازاں کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ملک بھر میں ائمہ کرام پر بنائے گئے مقدمات پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور حکومت سندھ پر زور دیا کہ اپنے کئے وعدے نبھائے اور ائمہ مساجد پر مقدمات ختم کئے جائیں۔مفتی تقی عثمانی نے اعلامیہ پڑھ کر سنایا جس میں کہا گیا ہے کہ مساجد آج سے کھول دی جائینگی اور رمضان مین کسی طور بند نہیں کی جائینگی البتہ مساجد میں سینیٹائزر گیٹ نصب کئے جائیں اور تمام تر احتیاطی تدابیر کی پابندی کی جائیگی تاہم عوام کو تراویح و جمعہ اور رمضان جیسے مقدس مہینے کی بابرکت ساعتوں سے محروم نہین کیا جاسکتا۔
مساجد بندش سے عوام کسی طور مطمئن نہیں۔کرونا کا علاج بھی توبہ و استغفار اور مساجد آباد کرنے میں ہے۔معروف مذہبی اسکالر مفتی زبیر نے کہا ہے کہ حکومت جس طرح پابندیون پر کامیابی سے عمل کرارہی ہے تو مساجد کو حفاظتی تدابیر کے ساتھ آباد کرانے کی بھی صلاحیت رکھتی ہے۔اس سے قبل بھی علماء کرام مساجد بندش پر گہری تشویش کا اظہار کرتے آئے ہیں جبکہ لاک ڈاون کے دوران کئی امام بارگاہوں میں بھی نمازیون کی بڑی تعداد جمعہ اور ولادت حضرت علی رض کے جشن میں شرکت کرتی رہی ہے۔خیال رہے وفاقی حکومت نے لاک ڈاؤن کو 30 اپریل تک بڑھانے کا اعلان کردیا ہے جبکہ ملک بھر کی تاجر تنظیموں نے 2 دن بعد سے دکانیں کھولنے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر اب تجارتی مراکز نہ کھولے گئے تو کرونا کے بجائے عوام بھوک سے مرجائینگے۔