خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے مکہ المکرمہ میں خلیج تعاون کونسل کے سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی بیلسٹک میزائل تیاری کی صلاحیت علاقائی اور عالمی سالمیت کیلئے خطرہ ہے۔ لہٰذا دنیا کو ملکر ایران کو اس کے مقاصد سے روکنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ خطے میں ایرانی مداخلت قیام امن کی کوششوں کیلئے چیلنج ہے۔ شاہ سلمان نے ایران کے خلاف ٹھوس اور فیصلہ کن موقف اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
ادھر امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکی پابندیوں کی وجہ سے ایران کی معیشت کمزور ہوگئی ہے۔ اب ایران ایک کمزور ملک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران ڈیل چاہتا ہے۔ اگر وہ بات کرنا چاہتا ہے تو ہم بھی تیار ہیں۔ تاہم ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای صدر ٹرمپ کی مذاکرات کی پیشکش کو پہلے ہی یہ کہہ کر رد کرچکے ہیں کہ تہران اپنی فوجی صلاحیتوں پر کوئی سمجھوتا نہیں کرے گا۔
اس حوالے سے سعودی فرمانروا نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کو دوسرے ملکوں کے معاملات میں مداخلت سے باز رکھنے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے۔ انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ ایران کی تخریبی کارروائیاں روکنے کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرے۔
شاہ سلمان نے کہا کہ ایران کو مذاکرت کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب خطے میں امن اور سلامتی قائم رکھنے کا خواہش مند ہے۔ ہم جنگ کی ہولناکیوں سے بچنا چاہتے ہیں۔ شاہ سلمان نے کہا کہ امن کیلے سعودی عرب ہمیشہ پیش قدمی کرتا رہے گا۔ حالیہ واقعات ہم سے تقاضہ کرتے ہیں کہ خلیج تعاون کونسل کی کامیابیوں کو محفوظ بنایا جائے۔