لاہور: موٹروے ریپ کیس کا مرکزی ملزم عابد ایک ماہ تک فرار رہنے کے بعد فیصل آباد سے گرفتار ہوگیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ موٹروے ریپ کیس کے مرکزی ملزم عابد کو فیصل آباد سے گرفتار کیا گیا ہے۔
اس کیس میں شریک دوسرا ملزم شفقت پہلے ہی جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے، دونوں ملزمان نے لاہور سیالکوٹ موٹر وے پر ڈکیتی کے بعد خاتون سے اس کے بچوں کے سامنے اجتماعی جنسی زیادتی کی تھی۔ ملزم عابد کو گرفتار کرکے لاہور منتقل کیا جارہا ہے اور اس کا دوبارہ ڈی این اے کیا جائے گا۔
اس سے قبل 4 مرتبہ قصور، شیخوپورہ، ننکانہ صاحب اور فورٹ عباس میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے عابد کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے تاہم وہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا تھا تاہم آج اسے پکڑ لیا گیا۔
ملزم کی گرفتاری میں پنجاب پولیس کی دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بھی معاونت کی اور سائنٹفک طریقے بھی استعمال کیے گئے۔ طلاعات کے مطابق پولیس نے عابد کی گرفتاری کے لیے جال بچھایا اور اس کی بیوی کو فون اور نمبر فراہم کیا، یہ نمبر بیوی نے عابد سے رابطے کیلئے استعمال کیا۔
ذرائع کے مطابق عابد نے اہلیہ کو اسی فون پر کال کرکے بتایا کہ وہ فیصل آباد آئے گا جس کے بعد اس کی اہلیہ کو فیصل آباد پہنچایا گیا۔ ذرائع نے بتایا کہ پولیس نے اس کی اہلیہ کو فیصل آباد پہنچا کر سادہ لباس اہلکاروں کا جال بچھایا اور جیسے ہی ملزم ملاقات کے لیے پہنچا تو اس کو حکمت عملی کے تحت بغیر کسی مزاحمت کے گرفتار کرلیا گیا۔
واضح رہے کہ 9 ستمبر کو لاہور کے علاقے گجر پورہ میں موٹر وے پر خاتون کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا واقعہ پیش آیا۔ 2 افراد نے موٹر وے پر کھڑی گاڑی کا شیشہ توڑ کر خاتون اور اس کے بچوں کو نکالا، موٹر وے کے گرد لگی جالی کاٹ کر سب کو قریبی جھاڑیوں میں لے گئے اور پھر خاتون کو بچوں کے سامنے زیادتی کا نشانہ بنایا۔