بھارت کشمیریوں کو اپنے زیرِ اثر رکھنے کے ہتھکنڈوں پر کورونا وائرس کی وبائی صورتحال میں بھی بھر پور طریقے سے عمل پیرا ہے۔ کورونا لاک ڈائون کے دوران متنازع ڈومیسائل قانون متعارف کرانے کے بعد مودی سرکار نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مقبوضہ کشمیر میں اشیائے ضروریہ کی قلت پیدا کر دی ہے۔ رمضان المبارک میں کشمیری عوام کو سحر و افطار کے سلسلے میں سحت پریشانی کا سامنا ہے۔ افطاری کا انتظام کرنے کیلئے گھر سے باہر نکلنے والے افراد کو زدو کوب کیا جارہا ہے۔ جبکہ ریاستی دہشت گردی کے واقعات میں مارچ سے اب تک 33 کشمیری نوجوان شہید کئے جا چکے ہیں۔
مقبوضہ جموں و کشمیر کے مقامی اخبارات اور جرائد کی رپورٹس کے مطابق بھارت نے کورونا لاک ڈائون کی آڑ میں کشمیریوں کو بھوکا مارنے کی منصوبہ بندی کر رکھی ہے۔ ہر طرف سے پسے ہوئے کشمیری عوام کو کاروبار کی اجازت ہے نہ انہیں بیماری کی صورت میں زندگی بچانے والی ادویات دستیاب ہیں۔ ”دی کشمیر مانیٹر“ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ لاک ڈائون میں کشمیری خاندان اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ کئی خاندان گزشتہ ماہ سے انتہائی کم وسائل میں گزر بسر کر رہے ہیں۔ لوگ اپنی جمع پونجی لٹا چکے ہیں اور اب ان کے پاس گھروں میں کھانے پینے کی اشیا بھی ختم ہو رہی ہیں۔ جبکہ ان کی غذائی ضروریات کو پورا کرنے کے بجائے قابض بھارتی حکومت مزید سختیاں کر رہی ہے۔
اپریل میں بھارتی قابض فورسز نے وادی کے مختلف علاقوں میں دکانداروں، دیہاڑی دار مزدوروں اور ضروری کام کیلئے گھر سے باہر نکلنے والے 200 سے زائد کشمیریوں کو گرفتار کیا۔ لاک ڈائون کے نام پر کئے جانے والے آپریشن میں بڈگام، قلم آباد، ولگام، کرالگنڈ، ہندواڑہ کے علاقوں سے 10 گاڑیوں کو بھی قبضے میں لے لیا گیا۔ ادھر کورونا وائرس کے تناظر میں بھارتی حکام کی جاری کردہ ہدایات اور پابندیوں کو کشمیری دکاندار اور تاجر ماننے سے انکاری ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کاروبار نہ ہونے کے سبب ان کے گھروں میں فاقوں کی نوبت آن پہنچی ہے۔ جبکہ خریدار بھی رمضان میں اشیائے ضروریہ نہ ملنے سے بے حد پریشان ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس نے بتایا ہے کہ بھارتی پولیس گھروں سے باہر نکلنے والے افراد کو تشدد کا نشانہ بنا رہی ہے۔ جس کی وجہ سے کشمیری عوام شدید کرب میں مبتلا ہیں۔ مائیں اپنے بچوں کو انتہائی ضرورت میں بھی گھروں سے باہر جانے سے روک رہی ہیں کہ کہیں قابض فورسز انہیں اپنی درندگی کا نشانہ نہ بنا دیں۔ ایسی ہی صورتحال ضلع شوپیاں میں ہے۔ جہاں ان دنوں بھارتی فورسز علاقے کا محاصرہ اور سرچ آپریشن کرکے کشمیریوں کو خوفزدہ کر رہی ہیں۔
واضح رہے کہ جموں و کشمیر میں جس کورونا وائرس کی آڑ میں لاک ڈائون کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔ اس سے اب تک صرف 647 کشمیری متاثر ہوئے ہیں۔ مقبوضہ وادی میں اس وبا سے 8 اموات ریکارڈ کا حصہ بنائی گئی ہیں۔ جبکہ ڈیڑھ ماہ سے زائد عرصے کے کورونا لاک ڈائون کے دوران 33 سے زائد نوجوانوں کو سرچ آپریشن کی آڑ میں کارروائی کر کے شہید کیا جا چکا ہے۔ کشمیری میڈیا سروس کے مطابق صرف مارچ میں 9 کشمیریوں کو موت کے گھاٹ اُتارا گیا اور اس پر بھی مودی سرکار کو چین نہ آیا تو اس نے یکم اپریل کو متنازع ڈومیسائل قانون لاکر مظلوم کشمیریوں کے زخموں پر نمک چھڑک دیا۔
اس قانون کے تحت اصل کشمیریوں کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی گھنائونی سازش کو عملی جامہ پہنانے کا راستہ بنایا گیا ہے۔ اس کے ذریعے کشمیر کو حصوں (جموں و کشمیر اور لداخ) میں تقسیم کیا گیا ہے۔ کشمیریوں کو اقلیت میں تبدیل کرنے کے منصوبے کے تحت ہر وہ شخص جو جموں و کشمیر میں 15 برس سے رہائش پذیر ہے۔ وہ اور اس کے بچے کشمیری تصور ہوں گے۔ اسی طرح ہر وہ طالب علم جو 7 برس سے کشمیر میں رہ رہا ہے۔ وہ بھی مقبوضہ وادی کا مستقل رہائشی تسلیم کیا جائے گا۔ 10 برس سے کشمیر میں رہنے والا ہر بھارتی سرکاری افسر یا ذیلی ادارے کا فرد بھی کشمیری مانا جائے گا۔ اور تو اور ہر وہ شخص جو بھارت کے کسی ادارے میں تارکین وطن کی فہرست میں شامل ہے۔ وہ بھی کشمیری شہری کہلائے گا۔
مقبوضہ وادی میں آبادی کا تناسب بگاڑنے میں سرگرم عمل بھارتی قابض حکومت کورونا لاک ڈائون میں مظلوم عوام کی غذائی ضروریات کو بھی پورا کرنے کی روادار نظر نہیں آ رہی۔ ”دی کشمیر مانیٹر“ کے مطابق غذائی قلت کے باعث کشمیری مائیں اپنے بچوں کا دھیان بٹانے کیلئے ہر ممکن کوشش کر رہی ہیں۔ یہاں ایک ماں کا ذکر بھی کیا گیا، جو اس وقت شدید اذیت میں مبتلا ہے۔ 37 سالہ گھریلو خاتون یاسمین جان کے پاس جب اپنے بچوں کو دینے کیلئے دودھ نہیں ہوتا تو وہ گھر کے کونے میں چُھپ کے سسک سسک کر روتی ہیں۔ گزشتہ 7 ماہ سے یاسمین کے شوہر کا واحد ذریعہ معاش سیاحتی فوٹوگرافی بند ہے۔ جس کے سبب وہ کچھ بھی کما نہیں سکے۔ آمدنی سُکڑ گئی ہے اور اشیائے ضروریہ بھی اسی طرح نایاب ہو چکی ہیں۔ تازہ لاک ڈائون کے سبب معمولات زندگی گزارنا مزید مشکل ہوگیا اور اب نوبت فاقہ کشی تک پہنچ گئی ہے۔
دی کشمیر مانیٹر کے مطابق کشمیر میں یومیہ اجرت پر کام کرنے والوں کیلئے بھی زندگی مشکل ہوگئی ہے۔ مسلسل کرفیو اور اب کورونا لاک ڈائون نے کشمیریوں کے ذرائع آمدن بند ہو چکے ہیں اور شہری فاقوں پر مجبور ہیں۔ نوپورہ کے علاقے شکیراوالہ کے 46 سالہ محمد شافی کو اپنی بیمار اہلیہ کی ادویات خریدنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ گزشتہ برس اگست سے نظام زندگی پوری طرح مفلوج ہونے کے سبب محمد شافی کو زیادہ کام بھی نہیں مل سکا۔ محمد شافی نے بتایا ”میری اہلیہ کو ذیابیطس سمیت کئی سجیدہ نوعیت کی بیماریاں لاحق ہیں۔ میرے پاس ان کیلئے دوائی خریدنے کے پیسے نہیں ہیں۔ پہلے ہی ادھار پر ادویات خرید چکا ہوں۔ اب کیمسٹ نے بغیر پیسوں کے ادویات دینا بند کر دی ہیں۔ جبکہ گھر میں کھانے پینے کی اشیا خصوصاً خوردنی تیل، مصالحہ جات، دودھ، چائے کی پتی کچھ بھی نہیں ہے“۔