مودی کے دوبارہ منتخب ہونے کے بعد بھارت میں شدت پسندی ایک بار پھر عروج پر پہنچ گئی ہے اور اترپردیش جہاں انتہا پسند وزیر اعلیٰ آدتیا ناتھ یوگی دوبارہ حکومت بنانے والے ہیں، میں مسلمانوں سمیت دیگر مذاہب اور نسل سے تعلق رکھنے والے افراد کیلئے زمین تنگ کی جا رہی ہے۔
اترپردیش کے شہر متھرا میں ’’رام رام‘‘ نہ کہنے پر ایک سادھو نے غیر ملکی باشندے پر چاقو سے حملہ کر دیا۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر زخمی شخص کو اسپتال پہنچایا، جہاں اس کی شناخت ڈیو واٹرا کے نام سے ہوئی ہے اور یہ لٹویا کا شہری ہے۔ پولس نے حملہ آور شخص کو بھی گرفتار کر لیا ہے، جس کا رِشی ہے۔
ادھر ٹائمز آف انڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ رِشی متھرا کے علاقے رادھا کنڈ کے کھجور گھاٹ میں 20 برس سے سادھو کی زندگی گزار رہا ہے۔ اس نے لٹوین باشندے کو دو بار آداب یعنی ’’رام رام‘‘ کہا تھا، جس پر اس نے جواب نہیں دیا اور پھر چڑچڑاہٹ میں اسے تھپڑ رسید کر دیا۔ بھارتی اخبار نے واقعے کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ تھپڑ مارے جانے پر سادھو نے ڈیو پر حملہ کیا، لیکن یہ نہیں بتایا کہ اس کے پاس چاقو کہاں سے آیا۔
مقامی میڈیا کے مطابق ٹورسٹ ویزا پر بھارت آنے والے لٹوین ڈیو واٹرا کے گلے پر چاقو حملے کے باعث گہرے زخم آئے ہیں۔ اس کی حالت بدستور تشویشناک ہے اور یہ اسپتال میں زیر علاج ہے۔ کمیونٹی ہیلتھ سینٹر میں اس کے گلے پر کئی ٹانکے لگائے گئے ہیں۔ ڈیو گزشتہ 5 برس سے رادھا کنڈ کے کھجور گھاٹ پر رہ رہا ہے۔ منگل کی صبح جب وہ بھجن کر رہا تھا تبھی رِشی نامی سادھو اس کے پاس آیا اور پاگل پن کا مظاہرہ کرنے لگا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ سادھو رِشی کمار پر قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔